27 مارچ 2014 - 19:30
اوبابا کے ریاض کے سفر کے نتائج پر شکست کا سایہ

سعودی عرب کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سب کی نظریں امریکہ کے صدر باراک اوباما کے ریاض کے سفر پر ٹکی ہوئی ہیں کہ جو جمعہ کو ہونے والا ہے مبصرین اس انتظار میں ہیں کہ یہ سفر اس شک کی حالت کو کہ جو مشرق وسطی خاص کر شام کے پروندے کے سلسلے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو لے کر امریکی ڈپلو میسی میں ایجاد ہوئی ہے اس کو ختم کرے گا۔

ابنا: لندن سے چھپنے والے روز نامہ العرب کی رپورٹ کے مطابق ، سعودی ذرائع کا کہنا ہے کہ اوباما سے یہ توقع نہیں ہے کہ وہ اس سفر میں اپنی سابقہ بحثوں کو دہرائے گااور سعودی عرب والوں کی ناراضگی کو بڑھائے گا ،بلکہ اس کے بر عکس وہ منتظر ہیں کہ شام کے پروندے کے بارے میں وہ امریکہ کے واضح موقف کو امریکہ کے صدر کی زبان سے سنیں ۔اس جیسی توقعات کا اظہار منگلوار کے دن سعودی عرب کے ولی عھد سلطان بن عبد العزیز نے کویت میں عرب لیگ کی نشست میں کیا جس سے واضح طور پر باراک اوباما کے سفر سے سعودی عرب کی توقعات کا پتہ چلتا ہے ،امیر سلطان نے کویت کی نشست میں اپنی تقریر میں کہا:شام کی مشکل کے حل کے لیے زمینی طاقت کے توازن کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔ اس نے اس تقریر میں عالمی سوسائیٹی پر الزام لگایا کہ اس نے شام کے مخالفین کو دھوکا دیا ہے ۔سعودی عرب کے مقامی سیاسی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ انہیں یہ توقع نہیں ہے کہ باراک اوباما شام کے صدر بشار اسد کے اپنے مخالفین کے ساتھ لڑنے کے طریقہء کار کے بارے میں اپنے ریاض کےاس سفر میں کوئی بات کریں گے ۔ ان کے عقیدے کے مطابق وہ اس سفر میں جنیوا ۲ کے مذاکرات کے دریچے سے اس سفر میں سیاسی راہ حل پر زور دیں گے اس کےباوجود کہ امریکہ کے اتحادی منجملہ سعودی عرب معتقد ہیں کہ بشار اسد دباو کے علاوہ کسی سیاسی راہ حل کو تسلیم نہیں کریں گے ، سعودی عرب والے کہتے ہیں کہ شام کے مخالفین کو ملکوں کی تسلیحاتی امداد ملنا چاہیے تا کہ اس طرح شام میں زمینی سطح پر طاقت کے توازن میں تبدیلی آئے اور بشار اسد پر دباو پڑے ۔یہ وہ مسئلہ ہے جس پر امریکی ابھی تک قانع نہیں ہوئے ہیں ۔ امریکی اس سے پریشان ہیں کہ یہ ماڈرن ہتھیار اسد کے مخالف ،تند رو انتہا پسندوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں کہ جو القاعدہ سے نزدیک نیم فوجی شمار ہوتے ہیں اور یہ مسئلہ عالمی مشکل میں تبدیل نہ ہو جائے ۔خلیجی ملکوں کے عربی حکام اسی طرح امیدوار ہیں کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ کا صدر مان جائے گا کہ وہ شام کے بحران میں اپنافعال تر کردار ادا کرے ،اگر چہ اوباما نے بارہا واضح طور پر کہا ہے کہ واشنگٹن شام میں فوجی مداخلت کا بالکل ارادہ نہیں رکھتا ۔اس کے باوجود نہ صرف سعودی عرب والے بلکہ خود امریکی حکام بھی ریاض کے باراک اوباما کے سفر کے مثبت نتائج کے سلسلے میں شک میں مبتلا ہیں ۔ بہت سارے تو یہ کہتے ہیں کہ امریکہ نے ایک عرصے سے سعودی عرب والوں کو علاقے کے معاملات سے الگ کر دیا ہے اور اب اس کی نظر میں اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔تمارا کوفمن ویٹس ،مشرق نزدیک میں ،سال ۲۰۰۹ سے ۲۰۱۲ تک امریکہ کے خارجہ امور کے وزیر کا معاون تھا ،اس سلسلے میں کہتا ہے: اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ صدر اوباما کو اپنے ریاض کے سفر میں سعودیوں کے اس مطالبے کا سامنا ہوگا کہ امریکہ شام میں زمینی طاقت کے توازن کو بدلنے کے لیے ،اسد کے مخالفین کو فوری طور جدید ہتھیاروں سے مسلح کرے ۔ویٹس کہ جو اس وقت لندن میں مشرق وسطی کے مطالعاتی مرکز سابان کا مدیر ہے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے: لیکن مسئلہ یہ ہے کہ باراک اوباما کے لیے یہ بہت مشکل ہے کہ وہ آسانی سے ایسا کوئی فیصلہ کرے ۔اسی لیے توقع کی جا رہی ہے کہ یہ سفر امریکہ کے عرب اتحادیوں کی توقعات کو پورا نہیں کرے گا۔ تجزیہ نگاروں کو توقع ہے کہ اوباما اس سفر میں صرف ہلکے ہتھیاروں سے مخالفین کی حمایت پر تاکید کرے گا کہ یہ مسئلہ بھی صرف خلیج فارس میں امریکہ کے عرب اتحادیوں کو راضی کرنے کے لیے ہو گا۔شام کے مسئلے کے ساتھ ایران کا موضوع بھی امریکہ اور سعودی عرب کے اختلافی مسائل میں شمار ہوتا ہے ۔ سعودیہ والوں کا یہ اعتقاد ہے کہ جنیوا کے سمجھوتے کے بعد ایران پر پابندیوں کا کم کیا جانا اور امریکہ کا شام پر فوجی حملہ نہ کرنا ،تہران واشنگٹن کے تازہ روابط سے مربوط ہے کہ جس میں سعودیہ والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں رکھی گئی ہے ۔سعودیہ والے اس انتظار میں ہیں کہ اوباما اپنے ریاض کے سفر میں صراحت کے ساتھ کہے کہ وہ ایران کے سلسلے میں اپنے موقف کو بدل دے گا اور اس کے علاوہ نئے مصر کے ساتھ نئی روش اپنائے گا ۔ اسی طرح ان کو یہ توقع بھی ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے مذاکرات صلح کے سلسلے میں سعودیہ والوں کو پھر سے اطمئنان دلائے ۔ڈینس راس ،باراک اوباما کا سابقہ اعلی مشاور اس سلسلے میں کہتا ہے: اوباما سعودی عرب نہ جاتا اور اس ملک کے بادشاہ سے ملاقات نہ کرتا اگر اس کو یہ احساس نہ ہوتا کہ سعودی عرب والوں کو اطمئنان دلانا ضروری ہے ۔اس کے باوجود بہت سارے تجزیہ نگار امریکہ کے صدر کے سعودی عرب کے سفر کی کامیابی کے سلسلے میں شک میں مبتلاء ہیں اور کہتے ہیں کہ ایسی توقع نہیں کی جا رہی ہے کہ اس سفر میں علاقے کے مختلف مسائل خاص کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں بہت سارے سمجھوتے ہو پائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲